About Us

تعارف امام سلسلہ عظیمیہ محمد عظیم برخیا قلندر بابا اولیاؒ٫

محمد عظیم برخیا صاحب ۱۸۹۸ء میں قصبہ خورجہ،ضلع بُلند شہر ، یو۔پی (بھارت ) میں پیدا ہوئے۔

آپ نے قرآنِ پاک اور ابتدائی تعلیم محلہ کے مکتب میں حاصل کی ۔

آپ بچپن ہی سے انتہائی ذہین ، باادب، خلیق اور ملنسار تھے اور اچھے بُرے کی تمیز رکھتے تھے۔ پڑھنے کے وقت نہایت توجہ سے پڑھتے اور ساتھیوں کے ساتھ محبت اور سلوک سے پیش آتے تھے۔

آپ نے بلندشہرؔ میں اسکول کی تعلیم مکمل کی اور پھر انٹر (INTER) میں داخلہ علی گڑھ میں لیا۔

نوجوان محمد عظیم رشتہ میں برصغیر کے ایک بزرگ بابا تاج الدین ناگپوری رح کے نواسے ہیں بابا تاج الدین نے نوجوان محمد عظیم کو اپنے پاس رکھا اور تربیت فرمائی۔

1947 میں قیام پاکستان کے بعد محمد عظیم صاحب اپنے اہل خانہ کے ساتھ کراچی آگئے۔

آپ نے شاعری میں برخیا تخلص اختیار فرمایا۔

محمد عظیم برخیا صاحب نے 1956ء میں سلسلہ سہروردیہ کے بزرگ قطبِ ارشاد حضرت ابوالفیض قلندر علی سہروردیؒ سے بیعت کی۔

1960 میں سلسلہ عظیمیہ کا قیام عمل میں آیا

حضرت محمد عظیم ؒ کی تصنیفات مندرجہ ذیل ہیں:

 لوح و قلم ، تذکرہ بابا تاج الدین ناگپوری رح ، کلام بصورتِ رباعیات ، قدرت کی اسپیس

the Massage of Silsila Azeemia

صحابہ، اہل بیت، تابعین، تبع تابعین کے بعد دنیا کو قرآن و سنت کی تعلیم اور اسلام کی تبلیغ کی ذمہ داری  علمائے حق نے انجام دی، ان میں علمائے ظاہر بھی شامل ہیں اور علمائے باطن یعنی اولیاء اللہ ہیں۔

پھر ہمیں تصوف کو بحیثیت ایک مسلمان سمجھنا چاہیے۔ ایک مسلمان کے لیے تعلیمات تصوف کی کیا اہمیت ہے…؟ہمیں سمجھنا چاہیے کہ تصوف کی تعلیمات ایک مسلمان کی کن ضروریات کی تکمیل کرتی ہیں؟

اور پھر مزید خصوصیت کے ساتھ بحیثیت ایک عظیمی کے ان تعلیمات کو سمجھنے کا اہتمام کرنا چاہیے یعنی اس سلسلہ طریقت سے وابستگی کے بعد ایک رکن سلسلہ کے لیے علم و عرفان کے اس سفر کے کیا تقاضے ہیں…؟

اللہ کی بندگی،اللہ کی عبادت ایک طرف تواللہ کے احکامات کی تعمیل ہے۔ عبادت کا ایک پہلو قرب الٰہی کی تمنا کا اظہار ہے۔اللہ کا قرب انسان کی روح کا ازلی تقاضہ ہے۔انسانی روح کے اس تقاضے کی تکمیل کے لئے اللہ نے راستے دکھائے ہیں، اللہ کے انبیا نے ان راستوں پر چلنے کے طریقے سکھائے ہیں۔

پہلا سبق

روحانی سلاسل میں ادب کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ سلسلہ عظیمیہ کے ہر رکن کے لیے، ہر طالب علم کے لیے پہلا سبق “ادب” ہے۔ سلسلہ کے ہر رکن کے لیے سلسلہ طریقت کے مرشد کا ادب و احترام لازمی ہے۔

ادب کے اس دائرے میں مرشد کے ساتھ ساتھ سلسلہ طریقت کا اور نسبت کا ادب بھی شامل ہے۔

تعارف سلسلہ عظیمیہ

سلسلہ عظیمیہ ایک روحانی اور علمی سلسلہ ہے ۔اس کاتعلق تصوف یا باطنی علوم سے ہے۔ سلسلہ عظیمیہ کے امام حضرت محمد عظیم برخیا المعروف قلندر بابا اولیاءؒ ہیں۔

سلاسل طریقت کے تحت تعلیم و تربیت کا بہت بڑا نظام گذشتہ تقریباً   چودہ صدیوں سے مسلسل جاری و ساری ہے۔ سلاسل طریقت کا شجر ہ نسبت واسطہ در واسطہ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔سلسلہ عظیمیہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے واسطے حضرت محمد رسوال اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔ تصوف کے تقریباً تمام سلاسل باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے واسطے سے حضرت محمد رسول اللہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتے ہیں البتہ سلسلہ نقشبندیہ حضرت ابو بکر صدیق کے واسطہ کا حامل ہے۔

تصوف کے طالب علموں کی تربیت عموماً دو طرزوں پر ہوتی ہے۔ ایک راہ، سلوک کی راہ کہلاتی ہے دوسری جذب کی راہ  ہے۔

سلسلہ عظیمیہ کے امام حضرت محمد عظیم برخیاؒ نے اراکین سلسلہ عظمیمہ کی تربیت کے لیے سلوک کی راہ متخب فرمائی ہے۔ سلوک کی راہوں میں تربیت کے لیے کسی سلسلہ طریقت میں بیعت ہونا اور مرشد کی نسبت و اجازت لازمی ہے۔ مجذوب کا معاملہ الگ ہے۔

                                        سلسلہ عظیمیہ کا نصب العین اور تعلیمات

سلسلہ عظیمیہ کا نصب العین عرفان الہٰی کا حصول ہے۔ سلسلہ عظیمیہ کی تعلیمات کا مقصد توحید باری تعالیٰ کو سمجھنا، اللہ تعالیٰ کی صفات سے آگہی حاصل کرنا، قرآن پاک میں تفکر کرنا، باعث تخلیق کائنات، نور اوّل، نبی آخر ھضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر غور و فکر کرنا ہے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے تزکیہ نفس اور عرفان ذات کے مراحل سے گزرنا ہوتا ہے۔

حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔  اللہ کی نازل کردہ کتابوں میں قرآن  آخری کتاب ہے۔ امت محمدیہ انبیاء کی امتوں میں سے آخری امت ہے۔ اب قیامت تک کوئی نیا نبی، کوئی نئی کتاب، کوئی نئی امت نہیں ہوگی۔

 نوع انسانی کو توحید کی دعوت اور پیغام رسالت کی تبلیغ اور تعلیم اور تزکیہ نفس امت مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے اس  ذمہ داری کو حضرت محمدرسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار نے نہایت احسن طور پر ادا فرما کر آنے والی نسلوں کے لئے روشن مثالیں قائم فرما دیں۔

Super Efficient

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus.

Deeply Commited

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus.

Highly Skilled

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus.

Dr. Waqar Yousuf Azeemi

Dr. Waqar Yousuf Azeemi

Dr. Waqar Yousuf Azeemi